ایران کی آئل ریفائننگ اور پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات
یہ جامع تجزیاتی رپورٹ ایران کے آئل ریفائننگ کے شعبے، ریفائنری اپ گریڈیشن منصوبوں، پیٹرول کی ملکی کھپت کے توازن اور بنکر فیول کی علاقائی برآمدات کا احاطہ کرتی ہے۔
ایران کی آئل ریفائننگ خام تیل اور قدرتی گیس کنڈینسیٹ کو پیٹرول، ڈیزل، ایندھن کا تیل، اور ایل پی جی جیسی اعلیٰ قدر پیٹرولیم مصنوعات میں تبدیل کرنے کا صنعتی عمل ہے جو ملکی توانائی کے تقاضے اور علاقائی برآمدات کو سہارا دیتا ہے۔

ایران کی ریفائننگ صلاحیت اور موجودہ صنعتی ڈھانچہ
ایران کی آئل ریفائننگ کا موجودہ ڈھانچہ 10 بڑی ریفائنریز پر مشتمل ہے جن کی مجموعی پروسیسنگ گنجائش تقریباً 2.4 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ چکی ہے۔ اس مجموعی صلاحیت میں خام تیل پر مبنی روایتی ریفائنریز اور ستارہ خلیج فارس جیسی گیس کنڈینسیٹ ریفائنری شامل ہیں، جس نے ملک کو پیٹرولیم شعبے میں درآمداتی محتاجی سے نکال کر ایک مستقل بنیاد فراہم کی ہے۔
اصفہان، آبادان، اور اراک ریفائنریز روایتی طور پر پرانے پیداواری یونٹس پر انحصار کرتی رہی ہیں، جہاں خام تیل کی پروسیسنگ کے دوران بھاری مصنوعات بالخصوص فرنس آئل کا تناسب مجموعی پیداوار کے 25 سے 30 فیصد تک بنتا تھا۔ اس غیر متوازن ڈھانچے کی وجہ سے ملکی سطح پر ہائی اوکٹین پیٹرول اور کم سلفر ڈیزل کی طلب پوری کرنا طویل عرصے تک ایک بڑا تکنیکی مسئلہ رہا۔
اس ساختی دباؤ کو کم کرنے کے لیے سرکاری کمپنی برائے ریفائننگ و تقسیم (NIORDC) نے ریفائننگ اثاثوں کی ری اسٹرکچرنگ شروع کی۔ ستارہ خلیج فارس ریفائنری کی یومیہ 450,000 بیرل گیس کنڈینسیٹ پروسیسنگ کی صلاحیت نے جنوبی پارس گیس فیلڈ سے نکلنے والے مائع جات کو براہ راست ہائی ویلیو پیٹرولیم مصنوعات میں تبدیل کرنے کی تاریخی بنیاد رکھی۔
تکنیکی سرمایہ کاری کے تحت حکومت نے کیٹلیٹک کریکنگ اور ہائیڈرو ٹریٹنگ یونٹس کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا۔ ان اقدامات کی بدولت ایرانی ریفائننگ کمپلیکس نہ صرف یورو-4 اور یورو-5 معیارات کے قریب پہنچ رہے ہیں بلکہ ایندھن کے معیار میں بہتری کے ذریعے ماحولیاتی آلودگی کے دباؤ کو بھی بتدریج کم کر رہے ہیں۔

ریفائنری اپ گریڈیشن منصوبے اور تکنیکی تبدیلیاں
ایران کی ریفائنریوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبوں کا بنیادی مقصد وزنی مصنوعات بالخصوص فرنس آئل کی پیداواری شرح کو 10 فیصد سے نیچے لانا ہے۔ موجودہ ریزیڈیو اپ گریڈنگ منصوبوں کے تحت آبادان اور اصفہان کے تاریخی کمپلیکسز میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ ویکیوم باٹم کو ہائی ویلیو لائٹ پروڈکٹس میں بدلا جا سکے۔
آبادان ریفائنری فیز 2 ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے ذریعے پرانے کریکنگ یونٹس کو ختم کر کے یومیہ 210,000 بیرل جدید صلاحیت کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس جدید پلانٹ سے خارج ہونے والے ایندھن میں سلفر کی مقدار عالمی سمندری معیارات کے مطابق کی جا رہی ہے، جس کے لیے ہائیڈرو ڈی سلفرائزیشن ری ایکٹرز اور ہائیڈروکریکرز کا نیا نیٹ ورک نصب کیا گیا ہے۔
اصفہان ریفائنری میں ڈیزل ہائیڈرو ٹریٹنگ یونٹ (DHT) کی تنصیب نے یورو-5 معیار کے ڈیزل کی روزانہ پیداوار میں 15 سے 20 ملین لیٹر کا اضافہ ممکن بنایا ہے۔ اس پیش رفت سے صنعتی مرکز میں فضائی آلودگی کے ذرات کے اخراج میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو صنعتی جدید کاری کی عملی کامیابی کا ثبوت ہے۔
تبریز، شیراز اور تہران ریفائنریز میں آئسومرائزیشن اور الکائیلیشن یونٹس کی اپ گریڈیشن سے اوکٹین بوسٹرز کی اندرونی پیداوار خود کفیل ہو چکی ہے۔ بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے درپیش ٹیکنالوجی کے خلا کو ملکی ریسرچ انسٹی ٹیوٹس اور مقامی کیٹلسٹ مینوفیکچررز نے مختلف کیمیائی عمل انگیز تیار کر کے بڑی حد تک پُر کیا ہے۔

پیٹرول کی مقامی طلب اور رسد کا نازک توازن
ایران میں پیٹرول کی ملکی کھپت گزشتہ دو دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جہاں موسم گرما اور تعطیلات کے دوران روزانہ اوسط کھپت 115 سے 120 ملین لیٹر تک ریکارڈ کی جاتی ہے۔ دوسری طرف تمام ریفائنریز کی مجموعی مشترکہ پیداواری صلاحیت 105 سے 112 ملین لیٹر کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے توانائی کے توازن پر زبردست دباؤ ہے۔
اس بڑھتی ہوئی کھپت کی اہم وجہ حکومت کی جانب سے ایندھن پر دی جانے والی بھاری غیر حقیقی سبسڈی ہے۔ ایران میں ریٹیل پیٹرول کی قیمت دنیا کی سب سے سستی ترین سطح پر ہونے کے باعث مقامی صارفین میں ایندھن کے انتظام کا دانشمندانہ طریقہ کار تشکیل نہیں پا سکا، اور گھریلو طلب ہر سال اوسطاً 6 سے 9 فیصد کی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔
مقامی کھپت کے دباؤ کے سبب ملک اب پیٹرول کا باقاعدہ خالص برآمد کنندہ نہیں رہا، بلکہ توازن برقرار رکھنے کے لیے سٹریٹجک ریزرو سے ایندھن نکالا جاتا ہے یا پیٹروکیمیکل پلانٹس سے متبادل کمپوننٹس شامل کیے جاتے ہیں۔ پیٹروکیمیکل پلانٹس سے حاصل کردہ ایرومیٹکس کے استعمال نے پیداوار تو بحال رکھی ہے لیکن ایندھن کے ماحولیاتی معیار پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔
حکومت اب غیر قیمت والے انتظامی اقدامات، مثلاً اسمارٹ فیول کارڈز کا سختی سے نفاذ اور متبادل سی این جی (CNG) کے انفراسٹرکچر کی توسیع پر کام کر رہی ہے۔ اس وقت سی این جی کا ملکی بیڑے میں متبادل ایندھن کے طور پر یومیہ 20 سے 24 ملین کیوبک میٹر حصہ ہے، جس سے روزانہ پیٹرول کی اتنی ہی مقدار بچائی جا رہی ہے۔
ڈیزل اور مٹی کے تیل کا برآمدی امکان
پیٹرول کے برعکس، ایران کے ڈیزل کا توازن نسبتاً بہتر ہے اور ملک یومیہ تقریباً 105 سے 115 ملین لیٹر الٹرا لو سلفر اور ریگولر ڈیزل تیار کرتا ہے۔ مقامی ٹرانسپورٹیشن سیکٹر اور بجلی گھر موسم سرما میں تقریباً 90 سے 95 ملین لیٹر کھپت کرتے ہیں، جس سے موسم گرما میں ایران کے پاس محدود اضافی سرپلس برآمد کے لیے دستیاب رہتا ہے۔
پابندیوں کے بین الاقوامی دباؤ کے باوجود، ایران زمینی راستوں کے ذریعے اپنے پڑوسی ممالک عراق، افغانستان، اور پاکستان کو ڈیزل اور ایل پی جی کی اہم مقدار فراہم کرتا ہے۔ یہ تجارتی بہاؤ زیادہ تر آزاد منڈی کے بارڈر ٹریڈ سسٹمز یا نجی تجارتی کنسورشیمز کے زیر انتظام سرحد پار ریٹیل پریمیم مارکیٹس کو ایندھن پہنچاتا ہے۔
مٹی کے تیل اور جیٹ فیول کی بات کی جائے تو ایرانی ریفائنریز ایوی ایشن انڈسٹری کی ضرورت پوری کرنے کے بعد تقریباً 15,000 سے 25,000 بیرل یومیہ سرپلس نکالنے کی پوزیشن میں ہیں۔ یہ مصنوعات علاقائی خریداروں کو او ٹی سی ٹینڈرز یا توانائی ایکسچینج (IRENEX) کے ذریعے مسابقتی ڈسکاؤنٹ پر فروخت کی جاتی ہیں۔
صنعتی بجلی گھروں کی سردیوں میں گیس کی قلت کے باعث ڈیزل کی گھریلو طلب میں ہونے والا اتار چڑھاؤ برآمدی حجم کے استحکام کو متزلزل کرتا ہے۔ ریفائنری مینیجرز کو نیشنل گرڈ کے تعطل کو روکنے کے لیے سردیوں میں برآمدات سست کر کے ڈیزل کو مقامی پاور پلانٹس کی طرف موڑنا پڑتا ہے۔
بنکر فیول مارکیٹ اور خلیج فارس میں مسابقت
ایران کا بنکر فیول سیکٹر آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان کی بحری راہداریوں پر اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے ایک تزویراتی تجارتی اہمیت رکھتا ہے۔ ایرانی بندرگاہوں خاص طور پر بندر عباس، قشم اور چابہار میں تجارتی بحری جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے کی بنیادی تنصیبات کو مسلسل وسعت دی گئی ہے۔
عالمی سمندری تنظیم (IMO 2020) کے کم سلفر فیول (VLSFO) قوانین کے نفاذ کے بعد ایران کو پرانے 3.5 فیصد سلفر والے فرنس آئل کی بنکرنگ میں چیلنجز کا سامنا رہا۔ اس رکاوٹ کے جواب میں، شازند اراک اور بندر عباس ریفائنریز میں نئی بلینڈنگ سہولیات بنائی گئیں جو 0.5 فیصد سلفر والی مصنوعات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ خطے کی سب سے بڑی بنکرنگ ہب ہے، اور ایران اپنی مسابقتی قیمتوں کی حکمت عملی کے ذریعے اس منڈی میں شیئر حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایرانی سرکاری اور نجی کمپنیاں بین الاقوامی جہاز رانی والے بیڑوں کو کم قیمتوں پر ہائی فلیش پوائنٹ ایندھن اور میرین گیس آئل فراہم کر کے ایک نمایاں مقام برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
قشم آئل ٹرمینل کو بطور بنکرنگ مرکز اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ تکمیل کے مراحل میں ہے تاکہ خلیج فارس میں داخل ہونے والے کارگو اور ٹینکرز کو براہ راست فیولنگ کی سہولت دی جا سکے۔ اگر یہ منصوبہ مکمل صلاحیت پر کام کرے تو ایران خطے کی بنکر مارکیٹ کا 15 سے 20 فیصد حصہ اپنی قومی بندرگاہوں پر لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پیٹروکیمیکل انضمام اور ڈاؤن اسٹریم ویلیو ایڈیشن
خام مال کو خام برآمد کرنے کے بجائے پیٹرو ریفائنری فارمولے کے تحت پراسیس کرنا ایرانی توانائی کی طویل مدتی اقتصادی حکمت عملی کا اہم ترین جزو بن چکا ہے۔ خام تیل کی ریفائننگ کو پیٹرو کیمیکل کمپلیکسز کے ساتھ مربوط کرنے سے نپتھا اور پروپیلین جیسی مصنوعات براہ راست پلاسٹک اور رال فیکٹریوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
مکران کوسٹل زون اور عسلویہ میں واقع خصوصی اقتصادی زونز میں قائم نئی تنصیبات براہ راست گیس اور فیڈ اسٹاک حاصل کر کے پولی ایتھیلین، میتھانول اور یوریا تیار کرتی ہیں۔ اس صنعتی انضمام سے ریفائنری کی اقتصادیات بہتر ہوتی ہے اور گروس ریفائننگ مارجن (GRM) میں 4 سے 8 ڈالر فی بیرل کا اضافی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
شہید سلیمانی پیٹرو ریفائنری پروجیکٹ بندر عباس کے قریب یومیہ 300,000 بیرل خام تیل پروسیس کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جہاں بنیادی پیداوار ایندھن کے بجائے کیمیکل مصنوعات پر مرکوز ہو گی۔ اس نوعیت کے منصوبے ملک کو مستقبل کے عالمی توانائی رجحانات میں روایتی ٹرانسپورٹیشن فیول کی مانگ میں متوقع کمی کے خطرات سے بچاتے ہیں۔
مقامی سائنسی بنیادوں پر کام کرنے والی نالج بیسڈ کمپنیوں نے ریفائننگ کے لیے درکار 70 فیصد سے زائد کیٹلسٹس تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس خود انحصاری نے بیرونی پابندیوں کے سبب درآمداتی تعطل کو ناکارہ بنا کر ملکی ڈاؤن اسٹریم صنعتی سرگرمیوں کو بغیر تعطل جاری رکھنے میں مدد دی ہے۔
لاجسٹکس، توانائی تجارت اور بیرونی پابندیوں کا اثر
امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں نے ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی شپنگ، فنانشل ٹرانزیکشنز اور برآمدی لاجسٹکس کو شدید طور پر پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس تجارتی بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران نے نیشنل ایرانین ٹینکر کمپنی (NITC) کے تحت ایک متبادل نجی و نیم نجی شپنگ فلیٹ کا جال بچھا رکھا ہے جو علاقائی راستوں پر کام کرتا ہے۔
کشتی سے کشتی میں منتقلی (STS) کے عمل، جدید فلیگنگ طریقوں اور بین الاقوامی مالیاتی نظام سے الگ لوکل کرنسی بِلنگ کے میکانزم کے ذریعے ایران اپنے ایندھن کے تیل اور ایل پی جی کے برآمدی حجم کو ایشیائی خریداروں بالخصوص چین تک پہنچانے میں کامیاب رہا ہے۔
ملکی سطح پر پائپ لائن نیٹ ورک کی توسیع، جیسے کہ گورہ سے جاسک تک جانے والی 1,000 کلومیٹر طویل خام تیل اور فیول پائپ لائن، نے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کر کے مصنوعات کو بحیرہ عمان کے راستے اوپن اوقیانوس میں لانے کا نیا لاجسٹک رستہ فراہم کیا ہے۔ اس اقدام سے برآمدی شپنگ کے انشورنس رسک اور لاگت میں واضح کمی آئی ہے۔
بیرونی رکاوٹوں کے باوجود فرنس آئل، ڈیزل اور پولیمر کی برآمدات غیر ملکی زرمبادلہ کمانے کا دوسرا بڑا ذریعہ ہیں۔ سالانہ بنیادوں پر پیٹرولیم مصنوعات اور پیٹرو کیمیکل کی برآمدات ملک کو 12 سے 16 بلین ڈالر کی آمدنی فراہم کرتی ہیں، جس سے معیشت کو مالیاتی سہارا اور درآمدی ادائیگیاں کرنے کی طاقت حاصل رہتی ہے۔
| ریفائنری کا نام | پروسیسنگ صلاحیت (بیرل یومیہ) | اپ گریڈیشن کی بنیادی سمت | اہم پیداواری خصوصیت |
|---|---|---|---|
| ستارہ خلیج فارس | 450,000 | فیز 4 آپٹیمائزیشن اور کیٹلسٹ اپ گریڈ | ملک کے کل پیٹرول کا 40 فیصد حصہ |
| اصفہان ریفائنری | 375,000 | ڈیزل ہائیڈرو ٹریٹنگ اور فرنس آئل میں کمی | یورو-5 ڈیزل کی صنعتی پیمانے پر پیداوار |
| آبادان ریفائنری | 400,000 | فیز 2 تجدیدِ نو اور اخراجات پر قابو | تاریخی کمپلیکس کی جدید پیٹرو ریفائنری میں تبدیلی |
| بندر عباس ریفائنری | 320,000 | کم سلفر بنکر فیول یونٹ کا قیام | میرین فیول اور جنوب مشرقی برآمدی لاجسٹکس |
| امام خمینی شازند اراک | 250,000 | آر ایف سی سی (RFCC) کی صلاحیت کا اضافہ | ہائی اوکٹین پیٹرول اور جدید کیمیکل کٹس |
اسٹریٹجک تجزیہ اور آئندہ دہائی کا سرمایہ کاری منظرنامہ
اگلی دہائی کے دوران ایران کے ریفائننگ سیکٹر کا دارومدار اندرونی ایندھن کی سبسڈی اصلاحات اور بیرونی ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کے حصول پر منحصر ہو گا۔ اگر حکومت نے مقامی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دانشمندانہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات نہ کیں تو بڑھتی کھپت 2030 تک ملک کو ریگولر پیٹرول کا مستقل درآمد کنندہ بنا سکتی ہے۔
چین کے ساتھ 25 سالہ جامع اسٹریٹجک معاہدے کے تحت ایرانی ڈاؤن اسٹریم انفراسٹرکچر میں غیر ملکی سرمائے کے آنے کے امکانات موجود ہیں۔ اس میں بنیادی ترجیح پرانی تنصیبات کی ڈیکاربنائزیشن، کاربن کیپچرنگ، اور ریفائنریوں کی توانائی کارکردگی کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
نجی شعبے کی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے مائیکرو ریفائنریز کی تعمیر کی اجازت دی جا رہی ہے جو دور دراز بارڈر ایریاز پر 10,000 سے 20,000 بیرل یومیہ کے ماڈیولر پلانٹس لگا کر علاقائی درآمد کنندگان کو سستی مصنوعات براہ راست فراہم کرنے کا ماڈل چلا رہے ہیں۔
مجموعی طور پر، ایرانی ریفائننگ انڈسٹری خام مال کے وسیع ذخائر، مضبوط اسٹریٹجک محل وقوع اور غیر معمولی انجینئرنگ صلاحیت کی حامل ہے۔ پابندیوں کا دباؤ اگرچہ مائع سرمائے اور ملٹی نیشنل کیپٹل کو محدود رکھتا ہے، لیکن ملکی معاشی مزاحمت اور علاقائی خریداروں کی مانگ اس شعبے کی مجموعی اقتصادی فعالیت کو قائم رکھے ہوئے ہے۔
Frequently asked questions
کیا ایران اس وقت پیٹرول برآمد کرتا ہے؟
ایران اس وقت باقاعدہ طور پر پیٹرول برآمد نہیں کر رہا کیونکہ اس کی مقامی طلب 115 سے 120 ملین لیٹر یومیہ تک پہنچ چکی ہے۔ یہ طلب اس کی ملکی پیداواری صلاحیت کے برابر یا اس سے زائد ہے، جس کے باعث تمام تر پیداوار ملکی مارکیٹ کے لیے رکھی جاتی ہے۔
ایران میں بنکر فیول کی تیاری کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟
ایران نے آئی ایم او 2020 کے تحت 0.5 فیصد سلفر کی حد پوری کرنے کے لیے بندر عباس اور شازند ریفائنریز میں نئی ڈی سلفرائزیشن اور جدید بلینڈنگ سہولیات قائم کی ہیں۔ ان اقدامات سے جہاز رانی کی صنعت کے تقاضوں کے مطابق ایندھن فراہم کرنا ممکن ہوا ہے۔
ستارہ خلیج فارس ریفائنری کی اسٹریٹجک اہمیت کیا ہے؟
ستارہ خلیج فارس دنیا کی سب سے بڑی گیس کنڈینسیٹ ریفائنری ہے جو یومیہ 450,000 بیرل کنڈینسیٹ صاف کرتی ہے۔ اس سے روزانہ 40 ملین لیٹر سے زائد یورو-5 پیٹرول بنتا ہے، جس نے ایران کو درآمدات کی محتاجی سے نکال کر ایندھن میں خود کفیل بنایا۔
ایرانی ریفائنریز میں فرنس آئل کی زیادہ پیداوار کا کیا حل نکالا گیا ہے؟
حکومت ریزیڈیو ہائیڈروکریکنگ اور ڈیلائیڈ کوکنگ ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ ویکیوم باٹم کو ڈیزل اور پیٹرول میں بدلا جا سکے۔ اس عمل سے پیداواری خام فرنس آئل کے حصے کو موجودہ 25-30 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد تک لایا جائے گا۔
پابندیوں کے دوران ایران پیٹرولیم مصنوعات کن منڈیوں کو برآمد کرتا ہے؟
ایران بنیادی طور پر اپنے پڑوسی ممالک مثلاً عراق، افغانستان اور پاکستان کو زمینی راستوں سے مٹی کا تیل، ایل پی جی اور ڈیزل فروخت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ایندھن کا تیل اور پیٹروکیمیکل سامان شپنگ نیٹ ورکس اور ایس ٹی ایس طریقوں کے ذریعے مشرقی ایشیائی منڈیوں میں بھیجا جاتا ہے۔
Key entities in this analysis
- NIORDC GovernmentOrganization
- ایران کی قومی ریفائننگ اور پیٹرولیم مصنوعات کی تقسیم کار کمپنی جو ملک کے تمام ریفائنری اثاثوں اور پائپ لائن نیٹ ورکس کی نگرانی کرتی ہے۔
- ستارہ خلیج فارس ریفائنری Organization
- بندر عباس میں واقع ایران کی سب سے بڑی گیس کنڈینسیٹ ریفائنری جو ملک کی پیٹرول پیداوار کا بنیادی حصہ بناتی ہے۔
- بندر عباس Place
- ایران کا اہم ترین ساحلی اور صنعتی شہر جو خلیج فارس کے دہانے پر برآمدی ٹرمینلز اور بنکرنگ کی سہولیات رکھتا ہے۔
- آبادان ریفائنری Organization
- مشرق وسطیٰ کی قدیم ترین آئل ریفائنریز میں سے ایک جس کی موجودہ جدید کاری ملکی ڈاؤن اسٹریم شعبے کا اہم پراجیکٹ ہے۔
- IRENEX Organization
- ایران انرجی ایکسچینج جہاں خام تیل، پیٹرولیم مشتقات اور بجلی کی شفاف ملکی اور بین الاقوامی بولی لگائی جاتی ہے۔
- IMO 2020 Law
- عالمی بحری تنظیم کا ایک ماحولیاتی ضابطہ جو بحری جہازوں کے ایندھن میں سلفر کی مقدار 0.5 فیصد تک محدود کرتا ہے۔
- شہید سلیمانی پیٹرو ریفائنری Project
- جنوبی ایران میں 300,000 بیرل یومیہ صلاحیت کا منصوبہ جو کیمیکل انضمام کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
Related questions
- ›ایران کے پیٹرولیم شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع
- ›مشرق وسطیٰ میں بنکر فیول کی قیمتوں کا موازنہ
- ›ایران کے پیٹروکیمیکل سیکٹر کی سالانہ آمدنی
- ›خلیج فارس میں آئل ریفائنریوں کے ماحولیاتی معیارات
- ›ایران پر عائد معاشی پابندیاں اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ
- ›جنوبی پارس گیس فیلڈ سے کنڈینسیٹ کی سپلائی کے اعدادوشمار
Methodology & sources
یہ تحریر ایرانی وزارت پیٹرولیم کے جاری کردہ تکنیکی و پیداواری بلیٹنز، نیشنل ایرانین آئل پروڈکٹس ڈسٹری بیوشن کمپنی کے کھپت گوشواروں، تہران چیمبر آف کامرس کے انرجی ڈیٹا بیس اور بین الاقوامی توانائی ایجنسیوں کے خطے سے متعلق غیر جانبدارانہ اعداد و شمار پر مبنی ہے۔